دھماکہ خیز خبر تاحیات نا اہلی کا نواز شریف سے کوئی تعلق نہیں۔۔حکومت تاحیات نا اہلی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو کیسے منٹوں میں جڑ سے اکھاڑ سکتی ہے، سپریم کورٹ کے سابق جج اور اٹارنی جنرل کے تہلکہ خیز انکشافات،

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نواز شریف کا نہ یہ کیس تھا نہ ان کا کہیں نام ہے اور نہ ہی ان کا اس کیس سے کوئی تعلق ہے، ایک سادہ قانون سازی سے اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ ’یہ لکھا جا سکتا ہے کہ آئین کی فلاں فلاں شق کے مطابق نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کو ایسا کوئی دائرہ اختیار نہیں تھا۔‘ان کا کہنا تھا کہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آئین میں ترمیم کی جائے اور اسے جڑ سے اکھاڑ دیا جائے۔ ’تیسرا طریقہ ہے نظر ثانی کی درخواست جس میں سپریم کورٹ سے کہا جائے کہ آپ نے بڑیغلطیاں کی ہیں اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ کورٹ اسے ٹھیک کرے، جسٹس ریٹائرڈ طارق محموداورسابق اٹارنی جنرل عرفان قادرکی برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے گزشتہ روز آئین کے آرٹیکل 62ایف ون کے تحت نا اہلی کی مدت سے متعلق کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے آرٹیکل 62ایف ون کے تحت نا اہل قرار دئیے جانے والے رکن پارلیمنٹ کی نا اہلی کی مدت کو تاحیات قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس فیصلے کے بعد ن لیگ کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف اور تحریک انصاف کے سابق سیکرٹری جنرل اور رہنما جہانگیر ترین تاحیات نا اہل ہو چکے ہیں کیونکہ دونوں کو سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 62ایف ون کے تحت نا اہل قرار دیا تھا۔ جہانگیر ترین کا موقف ہے کہ ان کا کیس کرپشن اور منی لانڈرنگ کا نہیں اور ویسے بھی ان کی فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل تاحال عدالت میں موجود ہے لہٰذا یہ فیصلہ ان پر لاگو نہیں ہوتا۔ دوسری جانب جب برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 62ایف ون کے آنے کے بعد معروف قانون دان اور سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود سے اس حوالے سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نہ درخواست گزار تھے اور نہ ہی اس فیصلے میں ان کا کوئی ذکر کیا گیا ہے۔’ساری دنیا اس فیصلے کو نواز شریف کے خلاف فیصلہ کہہ رہی ہے۔ ان کی تصویریں نشر ہو رہی ہیں اور ملامت جاری ہے۔ نواز شریف کا نہ یہ کیس تھا نہ ان کا کہیں نام ہے اور نہ ہی ان کا اس کیس سے کوئی تعلق ہے۔‘اگرچہ جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سابق وزیر اعظم کے خلاف نہیں ہے لیکن اس فیصلے کے آنے کے بعد وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ پہلے آتا ہے اور ٹرائل اور مقدمہ بعد میں کیا جاتا ہے۔آج بھی نیب ٹرائل کورٹ میں جاری ہے۔ کوئی بھی دستاویز موجود نہیں جس کے مطابق نواز نے اپنے بیٹے سے تنخواہ لی ہو۔ نواز شریف ابھی تک کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوا اور اسی الزام کی بنیاد پر انھیں نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔اگرچہ سپریم کورٹ کے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق فیصلے کے 60 صفحات میں نواز شریف کا کوئی ذکر نہیں ہے لیکن چونکہ اسی شق کے تحت انھیں اور جہانگیر ترین کو نااہل کیا گیا جس کا درخواست میں ذکر تھا اس لیے نہ صرف ان کی جماعت کا رد عمل آیا ہے بلکہ میڈیا اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی اس پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔ سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کہتے ہیں کہ فیصلہ تو غیر یقینی نہیں آیا لیکن ’پاکستان کی تاریخ میں اس فیصلے کو غیر معقول لکھا جائے گا یہ بہت کمزور فیصلہ ہے اور یہ متنازع ہی رہے گا‘۔انھوں نے کہا ’یہ غیر معقول اور غیر منطقی فیصلہ ہے۔ اگر کوئی شخص قتل بھی کرتا ہے تو پاکستان کے قانون کے تحت نا اہلی صرف پانچ سال ہے۔ لیکن اگر ایک شخص جس نے اثاثے ظاہر نہیں کیے اور وہ تاحیات نااہل قرار دیا جائے۔ تو یہ بظاہر حماقت لگتی ہے۔ قانون کی تشریح ایسے نہیں کی جاتی۔ قانون نے بھی ایسی باتیں نہیں کیں۔‘کیا اس فیصلے کو بدلا جا سکتا ہے اور کیسے؟اس سوال کے جواب میں سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا کہ ایک سادہ قانون سازی سے اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ ’یہ لکھا جا سکتا ہے کہ آئین کی فلاں فلاں شق کے مطابق نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کو ایسا کوئی دائرہ اختیار نہیں تھا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آئین میں ترمیم کی جائے اور اسے جڑ سے اکھاڑ دیا جائے۔’تیسرا طریقہ ہے نظر ثانی کی درخواست جس میں سپریم کورٹ سے کہا جائے کہ آپ نے بڑی غلطیاں کی ہیں اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ کورٹ اسے ٹھیک کرے‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں